سندھ طاس معاہدہ: امت شاہ کے جائزہ اجلاس کے بعد بھارت کا واضح پیغام

پاکستان کو پانی کی بلا روک ٹوک فراہمی ختم، دہائیوں پرانی ناانصافی کے خاتمے کی سمت فیصلہ کن قدم

0

جموں و کشمیر سے پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کے پانی کو روکنے سے متعلق یہ تمام مفروضے اور سیاسی محرکات پر مبنی نظریات—کہ بھارت لاجسٹک، جغرافیائی مشکلات اور بین الاقوامی سطح پر اس کے اسٹریٹیجک نقصانات کے باعث ایسا نہیں کر سکتا—منگل کے روز اس وقت دم توڑ گئے جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اس سلسلے میں اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔

یہ ان تمام شکوک و شبہات رکھنے والوں کے لیے ایک زوردار پیغام تھا جو یہ سمجھتے تھے کہ بھارت ایک ناممکن بات پر غور کر رہا ہے، یعنی پانی کے بہاؤ کو روکنا اور اسے اپنے استعمال میں لانا۔ یہ شکوک نہ صرف پاکستان اور بعض دیگر ممالک میں پائے جاتے ہیں بلکہ ملک کے اندر بھی کئی لوگ ایسے ہیں جو مودی حکومت کے عزم کے بجائے امکانات اور مشکلات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، حالانکہ یہی حکومت ماضی میں کئی ناممکن سمجھے جانے والے فیصلوں کو حقیقت کا روپ دے چکی ہے۔

جموں و کشمیر سے پاکستان کی جانب بہنے والے تین بڑے دریا—چناب، جہلم اور سندھ—گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی بقا میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پانے والے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کے تحت ان دریاؤں کے پانی پر پاکستان کو حق دیا گیا تھا۔ ان دریاؤں کے پانی نے پاکستان کی زرعی معیشت کو سہارا دیا، پینے کے پانی کی ضروریات پوری کیں اور ہائیڈرو پاور منصوبوں کی تعمیر میں مدد فراہم کی۔

ان دریاؤں کے تقریباً 80 فیصد پانی کا بہاؤ پاکستان کی جانب جاتا ہے، جبکہ بھارت کو محض 20 فیصد پانی آبپاشی اور بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ یہ تقسیم بذاتِ خود غیر منصفانہ ہے اور ساتھ ہی 1960 میں جموں و کشمیر کی حیثیت کے حوالے سے ایک تشویشناک منظرنامے کی عکاسی بھی کرتی ہے، جس کے تحت پاکستان پانی کے حق کی آڑ میں مسئلہ کشمیر کو اٹھاتا رہا اور نفسیاتی طور پر بھارت کے حصے کو محض 20 فیصد تک محدود کر دیا گیا۔

22 اپریل 2025 کو پہلگام کی پُرامن وادی میں پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں 26 افراد، جن میں 25 سیاح شامل تھے، جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس کے اگلے ہی دن، 23 اپریل 2025 کو بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا اعلان کیا۔ پاکستان کو واضح طور پر بتایا گیا کہ جب تک سرحد پار دہشت گردی بند نہیں ہوتی، یہ اقدام برقرار رہے گا۔ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کے 2016 کے اس مؤقف کی توثیق تھی کہ بھارتی ضروریات کی قیمت پر بھارتی پانی پاکستان کی جانب بہنے نہیں دیا جائے گا۔

پہلگام حملے کے بعد یہ محض ایک پالیسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک ضرورت بن چکا تھا، کیونکہ پاکستان کو بلا روک ٹوک پانی کی فراہمی اس وقت ممکن نہیں تھی جب وہ بھارتی شہریوں کو نشانہ بناتا رہے۔ وزیر اعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہا، “خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے”، اور اس کے بعد یہ عزم مزید مضبوط کیا گیا کہ “پاکستان کی جانب ایک بوند پانی بھی نہیں جانے دیا جائے گا۔”

منگل کے روز وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں اس بات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا کہ بھارتی پانی کو بھارتی عوام کے لیے محفوظ کرنے کے سلسلے میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے۔ اس اجلاس نے واضح کر دیا کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق مودی حکومت کا مؤقف محض بیان بازی نہیں بلکہ پانی کے مکمل کنٹرول کے لیے ایک ٹھوس اور عملی منصوبے کا حصہ ہے۔

جل شکتی کے وزیر سی آر پاٹل، بجلی کے وزیر ایم ایل کھٹر اور دیگر سینئر افسران کے ساتھ اجلاس میں امت شاہ نے مختلف محکموں سے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس طلب کیں، جن میں جموں و کشمیر سے دیگر ریاستوں تک پانی منتقل کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں میں وسیع نہری نظام اور پہاڑوں کے بیچ سرنگوں کے ذریعے پانی کی ترسیل جیسے بڑے انفراسٹرکچر اقدامات شامل ہیں۔

حکومتی منصوبہ بندی کے تحت قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی—تین سطحوں پر کام جاری ہے۔ اگرچہ ان منصوبوں کی مکمل تفصیل سامنے نہیں آئی، تاہم اندازہ ہے کہ اس میں دیہی علاقوں میں دریاؤں کی معاون ندیوں کا رخ موڑنا، انہیں آبپاشی کے لیے استعمال کرنا، چھوٹے ہائیڈرو پاور منصوبے تعمیر کرنا اور راجستھان جیسی ریاستوں تک پانی پہنچانے کے لیے نہری نظام کی تعمیر شامل ہے۔

یہ تمام پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت ہند اس معاملے پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے اور کسی بھی طور غفلت کا شکار نہیں۔ یہ پاکستان کے تھنک ٹینکس، سیاسی قیادت اور ان دھمکیوں کو بھی بے اثر کرتی ہے جن میں کہا جاتا رہا کہ پاکستان جموں و کشمیر میں بھارتی ڈیموں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

وزیر داخلہ کے اس جائزہ اجلاس نے واضح طور پر ثابت کر دیا ہے کہ بھارت نہ صرف اپنے حصے کا پانی استعمال کرے گا بلکہ اس پر مکمل کنٹرول بھی حاصل کرے گا۔ یہ پاکستان اور عالمی برادری کے لیے ایک صاف اور دوٹوک پیغام ہے کہ دہائیوں سے جاری ناانصافی کا ازالہ کیا جا رہا ہے، اور یہ عمل پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.