پہلگام حملہ صرف ہندوستان پر نہیں بلکہ ملک کے سماجی اتحاد اور تانے بانے پر تھا

آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا، پاکستان نے پھر کوئی بھی بزدلانہ حرکت کی تو کارروائی بے مثال اور فیصلہ کن ہوگی /راجناتھ سنگھ

0

سرینگر /02اپریل / سی این آئی // ایران جنگ کی وجہ سے موجودہ عالمی صورتحال کے درمیان ہندوستان کے پڑوسی کی طرف سے کی گئی کسی بھی ناپاک حرکت کی صورت میں فیصلہ کن کارروائی کا انتباہ جاری کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا اور اگر پاکستان نے کوئی حرکت کی تو ہندوستان کی کارروائی بے مثال اور فیصلہ کن ہوگی

۔سی این آئی کے مطابق انتخابی کیرالہ میں ایک سینک سمان سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستانی بحریہ کے جہاز آبنائے ہرمز کے ذریعے ملک کے ٹینکروں کو محفوظ طریقے سے لے جا رہے ہیں۔وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ہمارا پڑوسی، موجودہ صورت حال میں، کسی بھی مہم جوئی کا ارتکاب کر سکتا ہے، اگر وہ ایسا کرتا ہے، تو ہندوستان کی کارروائی بے مثال اور فیصلہ کن ہوگی اور کہا کہ آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔

ملک میں ایندھن کے بحران کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا”کچھ لوگ مغربی ایشیا میں اس تنازعے پر جھوٹ پھیلا کر خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں۔ نہ تو ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی کمی ہے اور نہ ہی گیس کی کمی۔ ہندوستان کسی بھی توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے تیار ہے“۔

انہوں نے اس بحران کے دوران ملک کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے چھوٹی موٹی سیاست میں ملوث ہونے پر اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے یہ بھی کہا”آج ہم سب بڑی تبدیلیوں کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ مغربی ایشیا میں ایک بڑا تنازع چل رہا ہے۔ کیرالہ کے بہت سے لوگ ان ممالک میں رہتے ہیں اور کام کرتے ہیں، لیکن ہمیں بالکل فکر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ہم اپنے ہندوستانی شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کے لیے کوئی قدم اٹھانے میں پیچھے نہیں رہیں گے۔

ہم اس کے لیے پوری طرح تیار ہیں“۔راجناتھ سنگھ نے جمعرات کو اس تقریب میں کہا”جس طرح دہشت گردوں نے پہلگام میں مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو نشانہ بنایاحملہ صرف ہندوستان پر نہیں بلکہ ملک کے سماجی اتحاد اور سماجی تانے بانے پر تھا“۔وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ ہندوستان عالمی جہاز سازی کے شعبے میں نمایاں پیشرفت کر رہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جہاں ملک جہاز سازی کے جدید طریقوں کو اپنا رہا ہے، وہیں قدیم ہندوستانی سمندری تکنیک کو بھی استعمال کر رہا ہے۔ اس پیشرفت پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے نوٹ کیا کہ کوچین میں دیسی ساختہ طیارہ بردار بحری جہاز کی تکمیل ہندوستان کو ایسی اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل ممالک کے منتخب گروپ میں شامل کرتی ہے۔

"ہندوستان کے بحری جہاز، کیرالہ سے ہوتے ہوئے، ایک زمانے میں رومی سلطنت سے کمبوڈیا اور انڈونیشیا تک تجارت کرتے تھے۔ یہ تبادلہ محض تجارتی نہیں تھا؛ یہ ایک ثقافتی تبادلہ بھی تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.