جموں کشمیر یوٹی حکومت کا پہلا بجٹ اجلاس 3مارچ سے منعقد ہوگا ،لیفٹنٹ گورنر نے منظوری دی

چھ سال بعد یوٹی کا سالانہ بجٹ پیش کیا جائے گا۔اجلاس کا افتتاح لیفٹنٹ گورنر کے خطاب سے ہوگا

0

سرینگر /28جنوری / سی این آئی //     جموں کشمیر یوٹی حکومت کا پہلا بجٹ اجلاس 3مارچ کو منعقد ہوگا جس کیلئے لیفٹنٹ گورنر نے منظوری دی ہے ۔ اجلاس کے پہلے روز لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا ارکان اسمبلی سے خطاب کریں گے جبکہ اس دوران چھ سال بعد مرکزی زیر انتظام علاقے کا سالانہ بجٹ پیش کیا جائے گا۔

لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے 3 مارچ کو جموں کشمیر یو ٹی کا پہلا بجٹ اجلاس بلانے کی منظوری دے دی ہے جس کے دوران چھ سال بعد یوٹی کا سالانہ بجٹ پیش کیا جائے گا۔عہدیداروں نے بتایا کہ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا بجٹ اجلاس کے پہلے دن 3 مارچ کو مقننہ سے خطاب کریں گے۔

خیال رہے کہ جموں کشمیر یوٹی کابینہ نے 20 جنوری کو منعقدہ اپنی میٹنگ میں مارچ کے پہلے ہفتہ میں مقننہ کے بجٹ اجلاس کی تجویز پیش کی تھی یہ تجویز لیفٹنٹ گورنر کو بھیجی گئی جنہوں نے اپنے خطاب کے ساتھ اجلاس کے آغاز کیلئے 3 مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے۔

حکام نے بتایا کہ اب، قانون ساز اسمبلی کے سپیکر عبدالرحیم راتھر قانون ساز اسمبلی کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے تاکہ ایوان کے سامنے ہونے والے کاروبار کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ اجلاس کی مدت کو حتمی شکل دی جا سکے اور وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کی طرف سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ بھی طے کی جا سکے۔

یہ پہلی بار ہوگا کہ عمر عبد اللہ مقننہ میں بجٹ پیش کریں گے کیونکہ وہ سال 2009سے 2014کے دوران وزیر اعلی کے طور پر اپنے سابقہ دور میں محکمہ داخلہ ، جنرل ایڈمنسٹریٹو محکمہ اور دیگر محکموں کا چارج رکھتے تھے۔عہدیداروں نے نشاندہی کی کہ بجٹ کو مقننہ سے 31 مارچ سے پہلے منظور کرنا ہوگا۔عام طور پر ریاستوں کے مقابلے یوٹیز میں مختصر بجٹ سیشن ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ جموں و کشمیر میں اس وقت وزیر اعلیٰ سمیت صرف چھ وزراءہیں جن میں وزراءکی کونسل میں تین اسامیاں خالی ہیں اور مقننہ سے بجٹ پاس ہونے سے پہلے صرف ان کی گرانٹس پر بحث ہوگی۔

تاہم مقننہ کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی گورنر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک، بجٹ اور وزارتوں کی گرانٹس کے علاوہ نجی اراکین کی قراردادوں اور بلوں پر بحث کیلئے مختص وقت پر کال کرے گی۔چونکہ حکومت صرف چند ماہ قبل قائم ہوئی ہے۔اس لیے اس کا کاروبار بھی محدود ہو سکتا ہے۔

حکومت نے تین ہفتے کے اجلاس کی تجویز دی تھی۔یہ مقننہ کا دوسرا اجلاس ہوگا کیونکہ پہلا اجلاس عمر عبداللہ حکومت کی تقریب حلف برداری کے چند دنوں کے اندر سرینگر میں 4 سے 8 نومبر تک منعقد ہوا تھا۔یہ بھی چھ سال کے بعد پہلی بار ہوگا جب جموں و کشمیر کا بجٹ مقننہ میں پیش کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.