کلچرل اکیڈیمی کی طرف سے فیاض دلبر کی یاد میں تعزیتی اجلاس کا انعقاد
مقررین نے فیاض دلبر کو ایک حساس شاعر، باضمیر ادیب، بصیرت افروز فلم ساز اور بااخلاق صحافی قرار دیا
سرینگر/ جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کی طرف سے آج کانفرنس ہال ٹیگور ہال میں معروف کشمیری شاعر، افسانہ نگار، ڈرامہ نویس، صحافی اور فلم ساز مرحوم فیاض دلبر کی یاد میں ایک تعزیتی مجلس منعقد کی گئی۔ جس میں مرحوم کے ادبی و فنی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
یہ تقریب اُن کے انتقال کے بعد اُنکے فنی و فکری سفر کو یاد کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔تقریب کا آغاز مرحوم کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی سے ہوا۔تقریب کی صدارت معروف ادیب پروفیسر مجروح رشید نے کی، جبکہ افتتاحی خطاب ایڈیشنل سیکریٹری اکیڈیمی عدیل سلیم نے پیش کیا۔اپنے خطاب میں عدیل سلیم نے اکیڈمی کے اس عزم کو دہرایا کہ اکیڈمی کا بنیادی فریضہ ہے کہ وہ اُن شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرے جنہوں نے کشمیری ادب و ثقافت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اکیڈمی کا فرضِ منصبی ہے کہ ایسے تخلیقی اور علمی شخصیات کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے یادگاری تقاریب منعقد کی جائیں۔ایوانِ صدارت میں پروفیسر فاروق فیاض، شبیر مجاہد، عیاش عارف، عدیل سلیم اور جاوید اقبال بھی تشریف فرما تھے۔
تقریب میں بڑی تعداد میں ادیب، شاعر، فنکار، فلم ساز، پروڈیوسر، صحافی، محقق اور ماہرینِ تعلیم موجود تھے۔ جنکی شرکت نے تقریب کو شایانِ شان اور باوقار بنایا۔ ایوان صدارت اور سامعین میں شامل مقررین نے اپنے تاثرات میں مرحوم فیاض دلبر کو ایک حساس شاعر، باضمیر ادیب، بصیرت افروز فلم ساز اور بااخلاق صحافی کے طور پر ایک ہمہ جہت تخلیق کار کے طور پر یاد کیا۔مقررین نے کہا کہ فیاض دلبر دراصل خود ایک ادارہ تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی ادب و فن کے لیے وقف کر دی۔پروفیسر مجروح رشید نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ فیاض دلبر کے افسانے کشمیری زندگی کے حُسن، جدوجہد اور احساس کو بھرپور انداز میں پیش کرتے رہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ فیاض دلبر کا تخلیقی کینواس بہت وسیع تھا۔ وہ بیک وقت صفحے کے لیے بھی لکھتے تھے، اسٹیج کے لیے بھی اور اسکرین کے لیے بھی۔
اُنہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ فیاض دلبر کے چلے جانے سے وادی کی علمی و فکری دنیا میں ایک گہرا خلا پیدا ہو گیا ہے۔فیاض دلبر کے جدید کشمیری نثر میں نمایاں کردار کو سراہتے ہوئے مقررین نے کہا کہ وہ اُن گنے چُنے تخلیق کاروں میں سے تھے جنہوں نے سماجی شعور کو تخلیقی اظہار کے ساتھ جوڑا۔تقریب میں شامل ممتاز شخصیات میں محمد امین بٹ،امداد ساقی، رحیم رہبر، نوشاد غیور، گلفام بارجی، بشر بشیر، شمشاد کرالہ واری اور عنایت گل نے بھی مرحوم کے ساتھ اپنے ذاتی و ادبی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر گلزار احمدراتھر نے انجام دئے۔ تقریب کے اختتام پر ایڈیٹر کشمیری جاوید اقبال خان نے شکریہ کرتے ہوئے کہا کہ اکیڈمی اُن ادبی شخصیات کے فنی وِرثے کو زندہ رکھنے کے لیے پُرعزم ہے جنہوں نے ہماری تہذیبی شناخت کو دوام بخشا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیاض دلبر کی تحریروں میں کشمیری مزاج اور آفاقی احساسات کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے اور اس یقین کا اظہار کیا کہ اکیڈمی اُن کے تخلیقی ورثے کو مستقل میں ادبی سرگرمیوں اور اشاعتوں کے ذریعے زندہ رکھے گی۔