”کلچرل اکیڈیمی کی طرف سے ”زیرِلب“ اور”مدماتی سخن“ کتابوں کی رونمائی

مقررین نے دونوں کتابوں کے فکری و ادبی پہلوؤں کو کشمیری ادب میں ایک اہم اضافہ قرار دیا

0

سرینگر/ جموں اینڈ کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کے اہتمام سے کانفرنس ہال ٹیگور ہال میں ایک ادبی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں رشید راشد کے افسانہ مجموعے ”زیرِ لب“ اور ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی کی مقالات پر مبنی تصنیف ”مدماتی سخن“ کی رسمِ رونمائی انجام دی گئی۔

تقریب کی معروف صدارت معروف افسانہ نگار ڈاکٹر نذیر مشتاق نے کی، جبکہ مذکورہ کتابوں کے مصنفین رشید راشد، ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی اور ایڈیٹر کشمیری جاوید اقبال خان بھی ایوانِ صدارت میں موجود رہے۔

تقریب کے آغاز میں جاوید اقبال خان نے مہمانوں کا استقبال کیا اور کلچرل اکیڈیمی کی جانب سے منعقد ہونے والے ادبی پروگراموں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا، نیز رونمائی کی جانے والی کتابوں پر بھی گفتگو کی۔تقریب میں اشرف راوی نے رشید راشد کے افسانہ مجموعے ”زیرِ لب“پر اپنا جامع اور تنقیدی مضمون پیش کیا، جس میں انہوں نے ”زیر لب“کتاب میں شامل افسانوں کے فکری پس منظر اور اسلوبیاتی جہات کا جائزہ لیا۔کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ کشمیری کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شفقت الطاف نے ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی کی تصنیف ”مدماتی سخن“ پر ایک تجزیاتی مقالہ پیش کیا۔تقریب میں پروفیسر بشیر بشیر، شکیل الرحمٰن اور دیگر معزز مقررین نے بھی اپنی آراء پیش کیں۔

انہوں نے مصنفین کے ساتھ اپنی علمی و ادبی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے دونوں کتابوں ”زیرِ لب“ اور ”مدماتی سخن“ کے فکری و ادبی پہلوؤں کو سراہا اور انہیں عصری کشمیری ادب میں ایک اہم اضافہ قرار دیا۔اپنے صدارتی خطبے میں ڈاکٹر نذیر مشتاق نے کہا کہ ادب محض الفاظ کی ترتیب نہیں، بلکہ انسانی تجربات، احساسات اور فکری بصیرت کا اظہار ہے۔

رشید راشد کے افسانوں میں زندگی کی داخلی سچائیاں اور انسان کے باطنی کرب کی وہ سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں جو اکثر بیان سے باہر رہ جاتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر نیلوفر ناز نحوی کی تصنیف ”مدماتی سخن“ کشمیری ادب میں ایک اضافہ ہے۔

تقریب کی نظامت کے فرائض اسسٹنٹ ایڈیٹر ڈاکٹر گلزار احمد راتھر نے انجام دیے۔جبکہ مقبول ساجد نے شکریہ کی تحریک پیش کی۔تقریب میں ادباء، شعرا ء اور قلمکاروں کی ایک اچھی تعداد موجود تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.