اننت ناگ، (میر اشفاق): ضلع اننت ناگ کے نیپورہ سے تعلق رکھنے والے معروف کشمیری شاعر اور ادیب علی محمد ریشی، جو علی شیدا کے نام سے جانے جاتے ہیں، کو ان کے کشمیری شعری مجموعے "نجد ونکی پوت آلو” (دی ایکوز آف نجدوان) پر باوقار ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا ہے۔ یہ اعزاز انہیں 1970 سے کشمیری ادب میں ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ ان کو یہ ایوارڈ دہلی میں ایک تقریب کے دوران دیا گیا۔ ادبی سیاسی اور سماجی انجمنوں کی جانب سے علی شیدا کو مبارکباد پیش کی جارہی ہے۔
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ہر سال 24 تسلیم شدہ بھارتی زبانوں میں نمایاں ادبی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے، جس میں ایک لاکھ روپے نقد، ایک تانبے کی تختی اور شال شامل ہوتی ہے۔ علی شیدا کا کہنا ہے کہ 1970 سے مسلسل محنت اور لگن پر مبنی ان کا طویل ادبی سفر بالآخر بھارت کے اعلیٰ ترین ادبی اعزازات میں سے ایک، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 2025 پر منتج ہوا ہے۔
شعری مجموعہ "نجد ونکی پوت آلو” (دی ایکوز آف نجدوان)
ریشی کو کشمیری زبان کے زمرے میں ان کے شعری مجموعے "نجد ونکی پوت آلو” (دی ایکوز آف نجدوان) پر یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ اس کتاب کو روایت اور جدید اظہار کے حسین امتزاج، ادبی گہرائی اور ثقافتی حساسیت کے لیے سراہا گیا ہے۔ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گاؤں نیپورہ سے تعلق رکھنے والے ریشی بتاتے ہیں کہ انہیں کم عمری سے ہی لکھنے اور پڑھنے کا شوق تھا، جب کہ ان کا باقاعدہ ادبی سفر 1970 میں شروع ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ 1971 کے دوران ان کے کالج کے ایام اور اساتذہ و ادیبوں کی رہنمائی نے ان کی ادبی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔
کتابیں ریڈیو و ٹیلی ویژن پر نشر ہو کر سامعین تک پہنچیں
انہوں نے کہا کہ وہ بہترین اساتذہ اور ادیبوں سے کافی متاثر ہوئے جن کے ساتھ انہیں ملاقات کرنے کا موقع ملا اور وہیں سے میرے ادبی سفر کو ایک نئی سمت ملی۔ ان کی ابتدائی تخلیقات مقامی اخبارات میں شائع ہوئیں، بعد ازاں انہوں نے قومی رسائل میں جگہ پائی اور ریڈیو و ٹیلی ویژن پر نشر ہو کر سامعین تک پہنچیں۔ گزشتہ برسوں میں علی شیدا 11 کتابوں کے مصنف رہے ہیں، جن میں چھ کشمیری، چار اردو اور ایک انگریزی زبان کی کتابیں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزید چار کتابیں رواں برس شائع ہونے کی توقع ہے۔
کشمیری شاعری کو جدید سمت دینے کی کوشش
ایوارڈ یافتہ مجموعہ، جو 2022 میں شائع ہوا، کشمیری زبان میں ان کی چھٹی کتاب ہے۔ ریشی کے مطابق، اس تصنیف میں نئے موضوعات پیش کیے گئے ہیں اور کشمیری شاعری کو جدید سمت دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ مذکورہ کتاب میں نئے موضوعات شامل ہیں۔ شیدا کے مطابق انہوں نے کوشش کی ہے کہ کشمیری شاعری کو ایک نئی جہت دی جائے تاکہ وہ دیگر زبانوں کا مقابلہ کر سکے۔
عالمی سطح پر مقبول غزل، نظم، نثری شاعری
انہوں نے مزید کہا کہ اس مجموعے میں نئے الفاظ اور اسالیب پر تجربہ کیا گیا ہے، جب کہ شعری روایت کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ کتاب میں غزل، نظم، نثری شاعری (جو عالمی سطح پر مقبول ہو رہی ہے)، رباعیات اور دیگر اصناف کے ساتھ ساتھ نئی اصناف جیسے ستری نظم بھی شامل ہیں۔
کامیابی برسوں کی مسلسل محنت کا نتیجہ
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ کو ایک باوقار اعزاز قرار دیتے ہوئے ریشی کہتے ہیں کہ یہ کامیابی برسوں کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ اس طرح کی اعلیٰ سطح کی پذیرائی بے حد خوشی کا باعث بنتی ہے۔ اس کے لیے برسوں کی محنت اور لگن درکار ہوتی ہے۔ ریشی نے وزارت ثقافت، ساہتیہ اکادمی، ساتھی ادیبوں، اساتذہ، دوستوں اور میڈیا کا شکریہ ادا کیا اور اس اعزاز کو اپنے خاندان اور چاہنے والوں کے لیے باعثِ فخر قرار دیا۔
