دفعہ370کی منسوخی سے نہ ملی ٹنسی پر کوئی اثر پڑا ہے اور نہ دفعہ370کا ملی ٹنسی کیساتھ کوئی واسطہ تھا

جموں خطے میں ہوئے حالیہ حملے حکومت کی ناکامی اور بھاجپا کے فریبی بیانیہ کی نفی کرتے ہیں/آغا روح اللہ

0

سرینگر /15جون / سی این آئی // دفعہ370کی منسوخی سے نہ ملی ٹنسی پر کوئی اثر پڑا ہے اور نہ دفعہ370کا ملی ٹنسی کیساتھ کوئی واسطہ تھا، خطہ جموں میں گذشتہ دنوں ہوئے حملے بھاجپا کے اُس بیانیہ کی نفی کرتے ہیں جو یہ لوگ دفعہ370کی منسوخی کے بعد جموں وکشمیر میں امن و امان لانے سے متعلق کرتے آرہے ہیں اور یہ حملے بی جے پی حکومت کی ناکامی کی بھی بھر پور عکاسی کرتے ہیں۔ سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس رکن پارلیمان برائے وسطی کشمیر آغا سید روح اللہ مہدی نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر پلوامہ میں آج ایک استقبالیہ تقریب کے حاشئے پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کا انعقاد نومنتخب رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی کے اعزاز میں رکھی گئی تھی، جس کا انعقاد ضلع صدر پلوامہ و انچارج کانسچونسی راجپورہ حاجی غلام محی الدین میر نے کیا تھا جبکہ اس موقعے پر نائب صدر وسطی زون و انچارج کانسچونسی محمد خلیل بند اور دیگر عہدیداران بھی موجو دتھے۔ آغا روح اللہ نے اس موقعے پر تمام ووٹروں کو شکریہ ادا کیا اور پارٹی کارکنوں اور عہدیداران کی محنت اور لگن کیلئے انہیں مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے پلوامہ کے این سی لیڈروں سے درخواست کی کہ وہ ان افراد کی فہرست فراہم کریں جنہیں قید کیا گیا ہے تاکہ وہ ان کا مسئلہ پارلیمنٹ میں اُٹھا کر ان کی رہائی کیلئے جدوجہد کرسکیں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ 2024کے عام انتخابات میں حکومت سے زیادہ لوگوں نے اپوزیشن کو منڈیٹ دیا ہے اور اس طرح سے بی جے پی کی من مانی اور تاناشاہی کو کمزور کیا گیا ہے۔آج بی جے پی حکومت بنائے رکھنے کیلئے محتاج ہے، اس کا ثر نہ صرف حکومت کے کام کاج پر پڑے گا بلکہ آنے والے وقت میں اپوزیشن اور زیادہ مضبوط ہوگی اور اس سے ہمیں اُمید ملتی ہے کہ ہم مضبوط اپوزیشن کی حمایت سے جموں و کشمیر کے عوام کی بات زور دار انداز میں کرسکتے ہیں۔ جموں خطے میں ہوئے حالیہ حملوں کے بعد اسمبلی انتخابات مو ¿خر ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں آغا روح اللہ نے کہا کہ ”بدقسمتی یہ ہے کہ یہ حملے ہوئے، جو نہیں ہونے چاہئیں تھے، اب ان حملوں کو بہانہ بنا کر ایک ہوا بنائی جارہی ہے کہ جموں وکشمیر کے عوام کو جمہوری حقوق سے دور رکھا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ چند ہفتے قبل ہی لوک سبھا الیکشن جموں وکشمیر کے عوام نے ایک بے مثال انداز میں یہ بات بتائی کہ ہ اپنے جمہوری اداروں کو اپنے ہاتھوں میں دیکھنا چاہتے ہیں، وہ اپنے فیصلے اپنے ہاتھوں میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اس ریاست کی انتظامیہ کو بھی اپنے ہاتھوں میں چاہتے ہیں، ان واقعات کا بہانہ بنا کر اگر حکومت ہند جموں وکشمیر کے عوام کو جمہوری حقوق سے محروم رکھنا چاہتی ہے تو یہ یہاں کے عوام کیساتھ ایک بہت بڑی ناانصافی ہونے کے ساتھ ساتھ جمہوری اقدار کا قتل ہوگا۔ ایک اور سوال کے جواب میں آغا روح اللہ نے مصنفہ اروندھتی رائے اور ڈاکٹر شیخ شوکت حسین کے خلاف UAPA کے تحت مقدمہ چلانے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے کو دبانے اور اظہارِ رائے کو مجرمانہ بنانے کے لئے انسداد دہشت گردی کے قوانین کا استعمال غیر آئینی اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.