جموں کشمیر یوٹی کے پہلے وزیر اعلیٰ کے بطور عمر عبد اللہ اور دیگر وزارء کی حلف برداری ١٦اکتوبر کو ہوگی
ایس کے آئی سی سی میں سٹیج تیار، انڈیا الائنس کے کچھ اہم لیڈران کی تقریب میں شرکت متوقع
سرینگر /15اکتوبر/ جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور نامز د وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کی حلف برداری کیلئے سٹیج سج گیا ہے اورآج یعنی 16اکتوبر کو نامزد وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ اور وزراء کی نئی کونسل کے دیگر ارکان ایس کے آئی سی سی میں تقریب میں حلف لیں گے۔عمر عبد اللہ کی حلف برداری میں شرکت کیلئے کئی اہم مہمانوں جن میں خاص طور پر کانگریس کے لیڈر اور رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی کی شمولیت بھی متوقع ہے۔سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر کے نامزد وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ اور وزراء کی نئی کونسل کے دیگر ارکان آج یعنی 16اکتوبر کو ایس کے آئی سی میں ایک تقریب میں حلف لیں گے۔وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کچھ دن پہلے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا مرمو سے ملاقات کی اور حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس کی زیرقیادت قائدین کی میٹنگ کے بعد لیفٹنٹ گورنر سے ملاقات کی جنہوں نے انہیں لیڈر منتخب کیا۔خیال رہے کہ راج بھون سے ایک خط لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے سوموار کی شام عمر عبد اللہ کے نام لکھی جس میں انہوں نے لکھا کہ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نئے نامزد وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور دیگر وزراء کے کونسل کو ایس آئی سی سی میں بدھ وار یعنی 16اکتوبر کی صبح 11بجکر30منٹ پر عہدے اور رازداری کا حلف دلائیں گے“۔ادھر وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کی تقریب حلف برداری میں معزز مہمانوں کی آمد شروع ہو گئی۔ خیال رہے کہ اسمبلی انتخابات 2024 کے بعد وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ اور وزراء کی کونسل کی تقریب حلف برداری 16اکتوبر 2024کو کو شیڈول ہے۔ اس موقع پر کانگریس کے کچھ اعلیٰ لیڈران کی بھی شرکت متوقع ہے۔ ادھر عمر عبداللہ کی وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف برداری کی تقریب سے قبل سرینگر میں شیر کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) کے اندر اور اطراف میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ عمر عبداللہ، جنہوں نے گزشتہ ہفتے حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا تھا، جمعہ کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی اور حمایت کا خط پیش کیا۔صدر دروپدی مرمو نے جموں و کشمیر میں صدر راج ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کا راستہ صاف کر دیا۔حالیہ تین مرحلوں پر مشتمل انتخابات کا اختتام نیشنل کانفرنس کانگریس اتحاد نے 90 میں سے 48 نشستوں کے ساتھ کیا، جس میں عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس نے برتری حاصل کی۔ کانگریس نے چھ نشستیں حاصل کیں، جب کہ جموں خطے میں بی جے پی نے 29 نشستیں جیت کر غلبہ حاصل کیا۔اس بار حلف برداری کی تقریب ایک علامتی تقریب ہو گی کیونکہ جموں و کشمیر تقریباً چھ سال کی مرکزی حکومت سے منتخب حکومت میں تبدیل ہو رہا ہے، جس کی قیادت عمر عبداللہ وزیر اعلیٰ کے طور پر کر رہے ہیں۔