بدھل راجوری میں پُر اسرار طور پر پھیلی بیماری کے نتیجے میں مزید دو بچے لقمہ اجل بن
ہلاکتوں کی تعداد 10تک پہنچ گئی ،چار بیمار بھائی بہن زیر علاج ،دو کی حالت انتہائی تشویشناک علاقے میں خوف و دہشت کا عالم ، انتظامیہ اور محکمہ صحت بیماری کی وجوہات جاننے کیلئے کوششوں میں محو
سرینگر /13جنوری / سی این آئی // راجوری کے بدھل علاقے میں پُر اسرار طور پر پھیلی بیماری کے نتیجے میں مزید دو بچے لقمہ اجل بن گئے جس کے ساتھ ہی ہلاکتوں کی تعداد 10تک پہنچ گئی ہے ۔ اسی دوران چار بیمار بھائی بہن میڈیکل کالج جموں میں زیر علاج ہے جہاں دو کی حالت تشویشناک بنی ہوئی ہے ۔ ادھر پُر اسر ار بیماری کے باعث مقامی آبادی میں خوف و دہشت پھیل چکی ہے جبکہ محکمہ صحت اور انتظامیہ اس بیماری سے نمٹنے کیلئے فی الحال کامیاب نہیں ہو پارہے ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق راجوری کے بدھل علاقے میں پر اسر ار طور پر پھیلی بیماری سے ابھی تک 10ہلاکتیں ہوئی ہے ۔ ایک اور تازہ واقعہ میں ایک ہی خاندان کے دو بچوں کی موت ہو گئی اور ان کے چار دیگر بہن بھائیوں شدید بیمار ہونے کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسزڈاکٹر راکیش مگوترا نے بتایا کہ دونوں بہن بھائیوں کا تعلق راجوری ضلع کے کوٹرنکا سب ڈویژن کے بدھل تحصیل کے بڈھال گاو ¿ں کے لاڑکوٹی بستی سے تھا جہاں دو مختلف خاندانوں کے آٹھ افراد گزشتہ سال دسمبر میں ایک پراسرار بیماری کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے تھے۔ .ڈائریکٹر ہیلتھ نے مزید کہا کہ لڑکی کی موت تقریباً ایک بجے اور لڑکا اس کے بھائی کی شام تقریباً 8بجے ہوئی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دو بچوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔راجوری کے ایک سینئر ضلعی صحت کے اہلکار نے بتایا کہ بدھل کے بڈھال گاو ¿ں سے تعلق رکھنے والے محمد اسلم کے چھ بچوں کو میڈیکل چیک اپ کیلئے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کنڈی لایا گیا تھا۔ ان میں بخار، پسینہ آنا، الٹی، پانی کی کمی، ہوش میں کمی وغیرہ جیسی علامات تھیں۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو ابتدائی طور پر میڈیکل کالج راجوری ریفر کیا گیا اور بعد میں ان میں سے چار کو ایس ایم جی ایس اسپتال (جی ایم سی) جموں منتقل کیا گیا جہاں نوینہ کوثر (8 سال) نامی بچی نے دوپہر کو آخری سانس لی جبکہ بھائی، ظہور احمد اتوار کی شام موت کی آغوش میں چلا گیا ۔ اہلکار نے بتایا کہ دو بہن بھائی جی ایم سی راجوری کے آئسولیشن وارڈ میں زیر علاج تھے۔ دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ ان دونوں کو جی ایم سی جموں کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا گیا تھا۔ ڈی ایچ ایس جموں کے نوڈل آفیسر ڈاکٹر ہرجیت رائے نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں پراسرار موت کے پیچھے وائرل انفیکشن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ ابھی حتمی نتیجے کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ایم او ایم ایل رانا کی قیادت میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ حکام کی ٹیم گاو ¿ں میں کیمپ لگا رہی تھی۔ مزید یہ کہ پونے کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی، پی جی آئی چندی گڑھ، ایمس دہلی اور نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول دہلی کے ماہرین کی مختلف ٹیموں نے بھی تحقیقات میں مدد کیلئے گاو ¿ں کا دورہ کیا تھا۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر رائے نے کہا کہ جموں کشمیر کے فارنسک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ کا ابھی انتظار ہے۔ وہ عام طور پر مختلف ٹیسٹ کرنے کیلئے چار سے چھ ہفتے کا وقت لیتے ہیںتاہم دورہ کرنے والی ٹیمیں ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچی ہیں۔