بی جے پی لیڈر حنا بٹ کھادی بورڈ سے نکال باہر، عمر عبداللہ حکومت کا حکمنامہ
حنا بٹ کو ایل جی منوج سنہا نے ایک سال پہلے کھادی اینڈ ولیج پورڈ کا چیئرپرسن نامزد کیا تھا۔
سری نگر: جموں و کشمیر میں عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس حکومت نے اقتدار پر براجمان ہونے کے ایک سو دن پورے ہونے کے موقعے پر اپنے اتھارٹی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مقامی سینئر لیڈر ڈاکٹر حنا بٹ کو کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریل بورڈ یا کے وی آئی بی کی سربراہ کے عہدے سے برطرف کر دیا۔ ان کی جگہ نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری بورڈ کی سربراہی کریں گے۔
حنا بٹ کو ذمہ داریوں سے فارغ کرنے کا عمل کھادی بورڈ کی تشکیل نو کے نتینے میں ہوا ہے جب کہ حکومت نے پانچ دیگر اداروں اور کارپوریشنوں کے بورڈز کی دوبارہ تشکیل بھی کی ہے جنکی سربراہی نائب وزیر اعلی کے ہاتھوں مین دی گئی ہے۔
ان کارپوریشنز میں کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز بورڈ، ہینڈی کرافٹس اینڈ ہیڈلوم کارپوریشن، جموں اینڈ کشمیر سیمنٹس لمیٹڈ، جموں اینڈ کشمیر انڈسٹریز لمیٹڈ، جموں و کشمیر سمال اسکیل انڈسٹریز کارپوریشن لمیٹڈ یا سیکاپ اورجموں و کشمیر اسٹیٹ انڈسٹریل کارپوریشن لمیٹڈ یا سڈکو شامل ہیں ۔ یہ ساری کارپوریشنز چھوٹے پیمانے کی صنعتوں اور گھریلو صنعتوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور حکومت کی پالیسیوں کو عام لوگوں کیلئے فائدہ بخش بنانے کیلئے درمیانہ دارانہ رول ادا کرتی ہیں۔ ان اداروں کے ذریعے استفادہ کرنے والوں کو روزگار کمانے کی خاطر گھریلو کارخانے لگانے کے لیے چھوٹے اور کم سود کے قرضوں کے ذریعے مدد کی جاتی ہے۔
سرکاری حکمنامے کے مطابق نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری ، جو صنعت و تجارت کے وزیر کا چارج بھی سنبھالے ہوئے ہیں، ان سبھی کارپوریشنس کے چیئرمین کی حیثیت سے کام کریں گے کیونکہ یہ تمام کارپوریشنز صنعت اور کامرس ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔
عمومی انتظامیہ یا جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (جی اے ڈی) کے جاری کردہ سرکاری حکم کے مطابق، کے وی آئی بی میں مالیات، دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے انتظامی سکریٹریز، اور صنعت و تجارت کے محکموں کے ساتھ ساتھ کوآپریٹو سوسائٹیز کے رجسٹرار اور ڈائریکٹر جنرل (کوڈز) بورڈ میں بحیثیت اراکین شامل ہوں گے۔۔ جی اے ڈی نے متعدد چھ احکامات جاری کیے ہیں جن میں پانچ دیگر کارپوریشنوں کے سربراہان کو تبدیل کیا گیا ہے۔
جن کارپوریشنز کے بورڈ تبدیل کئے گئے ہیں ان مین صرف سیاسی بنیادوں پر حنا بٹ ہی قیادت کے عہدے پر براجمان تھیں جبکہ دیگر کارپوریشنز یا بورڈز کے سربراہوں کی کرسی کالی تھی اور سربراہ کا کام لیفٹننٹ گورنر کے واحد صلاح کار آر آر بھٹناگر انجام دے رہے تھے۔
حنا بٹ نے پیشہ وارانہ طور دانتوں کی ڈاکٹر کے طور تعلیم حاصل کی ہے لیکن اپنے والد محمد شفیع بٹ کی تقلید میں انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا اسوقت دامن تھام لیا جب کشمیر میں کوئی قابل ذکر سیاستدان اس پارٹی کی جانب مائل نہیں ہوتا تھا۔ محمد شفیع بٹ، پارلیمنٹ اور اسمبلی کے رکن رہ چکے تھے اور ایک وقت میں نیشنل کانفرنس کے قائد ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے انتہائی قریب مانے جاتے تھے۔ تاہم عمر عبداللہ کے ہاتھوں میں پارٹی کی قیادت آنے کے بعد انکا دبدبہ کم ہوگیا اور ایک وقت میں وہ پارٹی چھوڑ کر عملی سیاست سے الگ ہوگئے۔
ڈاکٹر حنا بٹ کو لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نے 8 جنوری 2024 کو بورڈ کا چیئرپرسن بنایا تھا۔ اس سے پہلے وہ مرکزی ادارے کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز کمیشن یا کے وی آئی سی، کی شمالی ہندوستان کی سربراہ بھی رہیں۔ حنا بٹ 2014 میں بی جے پی میں شامل ہوئی تھیں اور 2014 کے اہم اسمبلی انتخابات میں انہوں نے امیرا کدل حلقے سے بھاجپا کی ٹکٹ پر الیکش لڑا تھا تاہم اس میں انہیں محض 200 سے زیادہ ووٹ ملے تھے۔ حنا بٹ کی الیکشن مہم کیلئے وزیر داخلہ امت شاہ بھی آ ئے تھے جنہوں نے راجباغ کی گندن پارک میں بھاجپا کے چند کارکنوں سے خطاب کیا تھا۔
یہ فیصلے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت آج اقتدار کے ایک سو دن مکمل کر رہی ہے ۔ اپوزیشن مرکزی زیر انتظام علاقے کی عمر عبداللہ حکومت کو "بے اختیار” قرار دے رہی ہے۔