ادبی مرکز کمراز جموں وکشمیر نے جموں وکشمیر اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز کے اشتراک سے کے ایل سہگل ہال جموں میں 45 ویں کشمیری

0

جموں: ادبی مرکز کمراز جموں وکشمیر نے جموں وکشمیر اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز کے اشتراک سے کے ایل سہگل ہال جموں میں 45 ویں کشمیری کانفرنس کا انعقاد کیا۔

کانفرنس کا وضوع "” جموں صوبے میں کشمیری زبان کی صورتحال ۔۔۔۔۔امکانات اور خدشات”تھا-

کانفرنس میں جموں وکشمیر کے اطراف واکناف سے آۓ ہوۓ ادیبوں ،شاعروں ،
قلمکاروں اور دانشورں نے شرکت کی۔ کانفرنس کئی نشستوں پر مشتمل رہی ۔ کانفرنس کا آغاز ادبی مرکز کمراز کے نائب صدر جاوید اقبال ماوری نے کلام شیخ العالم اور کلام لل عارفہ پیش کیاجبکہ رسمی طور کشمیری ژرٲرئ کانگر میں اسبند جلا کر کیا گیا۔

ابتدائی نشست کی صدارت معروف شاعر وادیب پروفیسر شاد رمضان نے کی۔ جبکہ ایوان صدارت میں معروف ڈوگری قلمکار پروفیسر للت گپتا، جموں وکشمیر اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لیگویجز کے ایڈیشنل سیکریٹری جناب سنجیو رانا اور فروغ اردو جموں وکشمیر کی صدر فوزیہ مغل صاحبہ اور ادبی مرکزکمراز کے صدر جناب محمد امین بٹ بھی موجود رہے۔خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوۓ۔

صدر مرکز جناب محمد امین بٹ نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوۓ کہا کہ ادبی مرکزکمراز کشمیری زبان کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر میں بولی جانے والی دیگر زبانوں کی ترقی وترویج کی خواہاں ہے انھوں نے کہا کہ ہندوستانی پارلیمنٹ کی جانب سے حال ہی میں ڈوگری اور دیگر چند ہندوستانی زبانوں کی
simultaous ٹرانسلیشن سسٹم میں شامل کرنے کا ہم جہاں خیر مقدم کرتے ہیں وہیں کشمیری زبان کو ایک تاریخی زبان ہونے کے باوجود نظرانداز کرنا دکھ اور افسوس کے مترادف ہے۔

للت گپتا نے اپنی تقریر میں کہا کہ ادبی مرکزکمراز کے اس ایوان صدارت میں ایک ڈوگری قلمکار کی عزت افزائی کرنا اس بات کا غماز ہے کہ ادبی مرکز کمراز کا دامن کتنا وسیع العریض ہے جبکہ فوزیہ مغل نے اپنی تقریر میں کہا کہ انھیں وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کی اس کہکشاں میں شرکت کرنے سے اپنائیت اور اپنے پن کا احساس جاگ رہا ہے۔

اپنے صدارتی کلمات میں صدر نشست پروفیسر شاد رمضان نے کہا کہ ادبی مرکز کمراز کی کارکردگی، محنت اور لگن کو دیکھ کر اس بات کا برملا اعتراف کیا جاسکتا ہے کہ کشمیری زبان زندہ تھی اور زندہ رہے گی اس نشست کی نظامت کے فرائض ادبی مرکز کمراز کے جنرل سیکریٹری جناب شبنم تلگامی نے بڑی خوش اسلوبی سے انجام دی۔

دوسری نشست کی صدارت سرکردہ کشمیری ادیب اور شاعر پروفیسر محمد زماں آذردہ نے کی۔ اس نشست میں معروف ادیب اور قلمکار جناب اسیر کشتواڑی، جناب برج ناتھ بیتاب ،اور جناب منشور بانہالی نے متذکرہ بالا عنوان کے حوالے سے اپنے مقالات پیش کیے۔اس نشست کی نظامت کے فرائض نوجوان قلمکارجناب شاکر شفیع نے انجام دئیے۔

تیسری نشست کی صدارت اردو اور پنجابی زبانوں کے معروف قلمکار جناب خالد حسین نے کی۔جبکہ ایوان صدارت میں پروفیسر ایاز رسول نازکی، سر کرده ادیب اور براڈکاسٹر عبدل احد فریاد اور ڈاکٹر بہار ابن مشعل سلطانپوری موجود تھے۔ اس نشست میں دو کتابوں جن میں مشعل سلطانپوری کی کتاب "اردو میں ترقی پسند تحریک”، اور سید مسعود شاداب کا شعری مجموعہ "کتھ سبزارن ہنز” کی رسم رونمائی انجام دی گئی-

جناب شاکر شفیع نے اردو میں ترقی پسند تحریک کتاب پر تبصره پڑھاـ اس نشست کی نظامت کے فرائض ادبی مرکزکمراز کے سیکریٹری فاروق شاہین نے انجام دئیے۔۔کانفرنس کی آخری نشست محفل مشاعره پر منعقد رہی جس کی صدارت معروف کشمیری شاعر اور ادیب پریم ناتھ شاد نے کی۔

ایوان صدارت میں ادبی مرکز کمراز کے بزرگ ممبر جناب سید سعد الدین سعدی اور مرکز کے جنرل سیکرٹری شبنم تلگامی کے علاوہ جناب حسرت گڈھا بھی موجود رہے۔

کانفرنس کے اختتام پر مرکز کے سرکردہ کارکن ظہور ہائگامی نے تحریک شکرانہ پیش کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.