جموں و کشمیر میں بغیر اجازت بورویل اور ہینڈ پمپ کی کھدائی پر پابندی

محکمہ جل شکتی نے خلاف ورزی پر مشینری ضبط، جرمانہ عائد کیے جانے اور قانونی کارروائی کا بھی انتباہ دیا ہے۔

0

سرینگر: پینے کے پانی کی بڑھتی آلودگی کو مد نظر رکھتے ہوئے جموں و کشمیر حکومت نے زیر زمین پانی کی تلاش اور اس کی کھدائی کے عمل کو ریگولیٹ کرکے باقاعدہ اور ضابطوں کے تحت لایا ہے۔ بور ویل وغیرہ کے لیے اب پیشگی فزیبلٹی اور تکنیکی جانچ کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی بھی تنبیہ کی گئی ہے۔

یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ریاست مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں آلودہ پانی استعمال کرنے کے باعث 21 افراد کی موت واقع ہوئی۔ وہیں ایک غیر سرکاری تنظیم ’’ڈاؤن ٹو ارتھ‘‘ (Down To Earth) کے مطابق جنوری 2025 سے جنوری 2026 کے دوران ملک کی 22 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کم از کم 5,500 افراد ’’سیوریج ملا ہوا پانی پینے‘‘ کے باعث بیمار ہوئے۔

جموں و کشمیر میں جل شکتی محکمہ کی ’’گراؤنڈ واٹر ڈویژن‘‘ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک حکمنامے میں واضح کیا گیا ہے کہ ’’بورویل نصب کرنے سے قبل ہائیڈرو جیولوجیکل مطالعہ، جیو فزیکل جانچ اور بور لاگز کے جائزے سمیت سبھی پیشگی جائزے لازمی ہیں۔‘‘ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ’’دیگر محکموں کی جانب سے ان ضروری مراحل کے بغیر کیے گئے کاموں سے پانی کے نظام کی سالمیت متاثر ہو رہی ہے اور زیر زمین پانی کا غیر پائیدار استعمال عام ہو رہا ہے۔ اسی لیے جل شکتی محکمہ کی گراؤنڈ واٹر ڈویژن کو پورے جموں و کشمیر میں زیر زمین پانی کی تلاش اور اجازت دینے والا واحد مجاز ادارہ قرار دیا گیا ہے۔‘‘

پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے چیف انجینئر، کشمیر ڈویژن، راکیش شرما نے بتایا کہ زیر زمین پانی کی تلاش کے لیے کھدائی کو منظم کرنے کا مقصد پینے کے صاف پانی کو یقینی بنانا اور آلودگی کے واقعات کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’اب، کسی کو بھی بغیر اجازت زیر زمین پانی نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی اور تمام مقامات پر پہلے فزیبلٹی جانچ کی جائے گی تاکہ آلودگی کے خطرات سے بچا جا سکے۔‘‘

یونین گراؤنڈ واٹر بورڈ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ’’ملک میں زیر زمین پانی میں نائٹریٹس سمیت دیگر مضر آلودگیوں کی مقدار مقررہ حد سے تجاوز کر چکی ہے، جس کی بڑی وجوہات زرعی بہاؤ، کھادوں کا بے تحاشا استعمال اور سیوریج نظام کی ناکامی جیسے عوامل ہیں۔‘‘

جموں و کشمیر میں بھی بارہمولہ، جموں، کٹھوعہ، کپوارہ، راجوری اور سانبہ اضلاع میں زیر زمین پانی میں نائٹریٹس کی زائد مقدار پائی گئی ہے، جو صحت کے لیے سنگین خطرہ تصور کی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق خطے میں سالانہ زیر زمین پانی کی ری چارج صلاحیت 2.55 ارب مکعب میٹر ہے، جن میں سے 2.30 ارب مکعب میٹر قابل استعمال سمجھے جاتے ہیں۔ اس وقت سالانہ نکاسی 0.51 ارب مکعب میٹر ہے، جبکہ زیر زمین پانی کے دباؤ کا اشاریہ صرف 22.28 فیصد ہے، جو قومی اوسط 60.47 فیصد سے کہیں کم ہے۔

اس کے باوجود 2025 میں طویل خشک موسم کے باعث آبپاشی کی فراہمی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں زرعی رقبے پر دھان کی کاشت متاثر ہوئی اور کسانوں کو کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی طرف مائل ہونا پڑا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پانی کے محتاط استعمال پر زور دیتے ہوئے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے قائم کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

دریں اثنا، جل شکتی محکمہ کی گراؤنڈ واٹر ڈویژن، سرینگر شاخ، کے ایگزیکٹو انجینئر کی جانب سے جاری ایک اور سرکاری خط میں ضلع پلوامہ میں جموں و کشمیر اسٹیٹ واٹر ریسورسز ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ 2010 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بورویل اور ہینڈ پمپ لگانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

خط کے مطابق یہ قانون گراؤنڈ واٹر ڈویژن کو زیر زمین پانی کی تعمیر، نگرانی اور پائیدار استعمال کا مکمل اختیار دیتا ہے، جس میں ہینڈ پمپ، بورویل اور ٹیوب ویل شامل ہیں۔ محکمے نے تمام جاری بورویل اور ہینڈ پمپ منصوبوں کو فوری طور پر روکنے، زیر زمین پانی سے متعلق تمام تجاویز تکنیکی جانچ اور فزیبلٹی کے لیے جمع کرانے اور تمام کام صرف مجاز چینلز کے ذریعے انجام دینے کی ہدایت دی ہے۔

سرکاری مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ جل شکتی محکمہ کی منظوری کے بغیر کی گئی کسی بھی ڈرلنگ سرگرمی کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا، جس پر مشینری ضبط کرنے، بھاری جرمانہ عائد کرنے اور قانونی کارروائی عمل میں لانے کی وارننگ بھی دی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.