جموں و کشمیر میں نئے فوجداری قوانین کا نفاذ ، امیت شاہ کی سربراہی میں دہلی میں میٹنگ منعقد
پولیس، جیل، عدالتوں، استغاثہ اور فرانزک سے متعلق مختلف نئی دفعات کی موجودہ صورتحال کا احاطہ کیا گیا، وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ ، لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا ، چیف سیکرٹری اور پولیس سربراہ سمیت دیگر افسران کی شرکت
سرینگر / دو الگ الگ میٹنگوں میں جموں کشمیر کی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد وزیر داخلہ امیت شاہ نے نئی دہلی میں جموں و کشمیر میں نئے فوجداری قوانین کے نفاذ پر ایک جائزہ میٹنگ کی۔ یہ اجلاس جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں ہوئی۔
میٹنگ میں پولیس، جیل، عدالتوں، استغاثہ اور فرانزک سے متعلق مختلف نئی دفعات کی موجودہ صورتحال کا احاطہ کیا گیا ۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے نئی دہلی میں جموں و کشمیر میں نئے فوجداری قوانین کے نفاذ پر ایک جائزہ میٹنگ کی۔نارتھ بلاک میں منعقد ہ اس میٹنگ میںجموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں ہوئی۔
میٹنگ میں پولیس، جیل، عدالتوں، استغاثہ اور فرانزک سے متعلق مختلف نئی دفعات کی موجودہ صورتحال کا احاطہ کیا گیا جن کا تذکرہ تین نئے فوجداری قوانین بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) 2023؛ بھارتی شہری تحفظ سنہتا ، 2023؛ اور بھارتیہ ساکشیہ ادھینیم ، 2023 جس نے بالترتیب انڈین پینل کوڈ ، کوڈ آف کریمنل پروسیجر اور انڈین ایویڈینس ایکٹ کی جگہ لے لی۔
میٹنگ میں مرکزی داخلہ سیکرٹری ،جموں و کشمیر کے چیف سیکرٹری ، جموں کشمیر پولیس سربراہ ،نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے ڈائریکٹر جنرل اور مرکزی وزارت داخلہ اور یوٹی کے کئی سینئر افسران نے شرکت کی۔خیال رہے کہ اس سے قبل وزیر داخلہ نے مہاراشٹر میں مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کے ساتھ ایک میٹنگ میں ان قوانین کے نفاذ کا جائزہ لیا اور ان سے کہا کہ ان قوانین کو تمام کمشنریٹس میں جلد از جلد لاگو کیا جائے۔شاہ نے تین نئے فوجداری قوانین کے نفاذ کے سلسلے میں گزشتہ چند مہینوں میں دیگر ریاستوں کے ساتھ بھی اسی طرح کی میٹنگیں کی ہیں۔
ان ریاستوں میں گجرات، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، اتراکھنڈ اور ہریانہ شامل ہیں۔