جموں کشمیر میں سیکورٹی فورسز پر حملوں کے بیچ پاکستان کے ساتھ بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں

پاکستان جموں و کشمیر کے معاملات میںمداخلت سے کبھی باز نہیں آیا/ وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ

0

سرینگر /20    جموں و کشمیر میں سیکورٹی فورسز پر حملوں کے درمیان مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے کی بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے معاملات میںمداخلت سے کبھی باز نہیں آیا۔ یہ کہنا بے وقوفی ہو گی کہ جموں و کشمیر نے جو کچھ دیکھا ہے وہ بیرونی مدد کے بغیر خالصتاً مقامی ہے۔

اسی دوران ملک کی جمہوری مشق میں غیر ملکی مداخلت قابل مذمت ہے کی بات کرتے ہوئے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ان رپورٹوں پر اپنا موقف واضح کرنا چاہئے کہ امریکہ نے ”ہندوستان میں ووٹر ٹرن آو ¿ٹ “کیلئے 21 ملین امریکی ڈالر خرچ کئے۔سی این آئی کے مطابق جموں میں ایک تقریب کے حاشیہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے ملک کی جمہوری مشق میں غیر ملکی مداخلت کی سختی سے مخالفت کی۔

انہوںنے کہا ”غیر ملکی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ اب تک، غیر ملکی مداخلت کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔الیکشن کمیشن کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ آیا ہمارے انتخابات میں غیر ملکی مداخلت ہوئی تھی کیونکہ آج تک ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے انتخابات آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے ہوئے۔ “

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہندوستان میں ووٹر ٹرن آو ¿ٹ پر رقم خرچ کرنے کی ضرورت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا ”یہ امریکہ پر منحصر ہے اور یہ ان کی امداد ہے کہ وہ کس کو دینا چاہتے ہیں یا نہیں۔ یہ فیصلہ ہمارا کہاں ہے؟۔ “ خیال رہے کہ امریکی محکمہ برائے حکومتی کارکردگی نے ارب پتی ایلون مسک کی سربراہی میں حال ہی میں اخراجات میں کٹوتیوں کی ایک سیریز کا اعلان کیا، جس میں بھارت میں ووٹروں کے ٹرن آو ٹ 21 ملین امریکی ڈالر مختص کیے گئے تھے۔

ادھر عالمی خبر رساں ادارے بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرو یو میں وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی فورسز اور تعمیراتی کیمپوں پر دہشت گردانہ حملوں کے بعد ہندوستان کے پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔انہوں نے کہا ”پاکستان نے (جموں و کشمیر کے معاملات میں) مداخلت سے کبھی باز نہیں آیا۔ یہ کہنا بے وقوفی ہو گی کہ جموں و کشمیر نے جو کچھ دیکھا ہے وہ بیرونی مدد کے بغیر خالصتاً مقامی ہے۔ اس وقت، گزشتہ چند سالوں میں ہونے والے حملوں کی وجہ سے (بات چیت کی) کوئی گنجائش نہیں ہے۔ “

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو حکومت کے کچھ تحفظات کو بورڈ پر لانے کی کوشش کرنا تاکہ ہم ایک دوستانہ ورکنگ ریلیشن شپ قائم کر سکیں جس کے بارے میں نیشنل کانفرنس نے بات کی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.