"نسلِ نو کو بچانے کی مؤثر کوشش”
اسکولوں میں مارننگ اسمبلی کے دوران منشیات اور معاشرتی برائیوں پر روزانہ آگاہی دینے کی تجویز
شبیر خان
جموں و کشمیر میں منشیات کے استعمال میں مسلسل اضافے اور نوجوانوں میں معاشرتی و اخلاقی زوال نے والدین، اساتذہ، تعلیمی ماہرین اور سماجی تنظیموں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان خدشات کے پیش نظر، ایک مؤثر اور عملی تجویز سامنے آئی ہے جس کے تحت ریاست کے تمام تعلیمی اداروں میں روزانہ صبح کی اسمبلی کے دوران کم از کم 10 منٹ طلبہ کو منشیات اور دیگر سماجی برائیوں سے آگاہ کرنے کے لیے مختص کیے جائیں۔
منشیات کا بڑھتا ہوا طوفان
گزشتہ چند برسوں میں جموں و کشمیر میں منشیات کا استعمال ایک بڑے سماجی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ پولیس، صحت عامہ اور غیر سرکاری اداروں کی رپورٹس کے مطابق، اسکول اور کالج کے طلبہ بڑی تعداد میں نشہ آور اشیاء کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ آسان دستیابی، peer pressure، سوشل میڈیا پر glamorization، اور والدین و اساتذہ کی مصروفیت یا غفلت اس بحران کے بنیادی اسباب میں شامل ہیں۔
مارننگ اسمبلی کا استعمال: ایک مثبت قدم
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ روزانہ کی صبح کی اسمبلی بچوں کے ذہن کو ایک سمت دیتی ہے۔ اگر اسی وقت کا استعمال شعور بیدار کرنے کے لیے کیا جائے تو اس کے نتائج دیرپا اور مثبت ہو سکتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر 10 منٹ کا ایک خاص حصہ منشیات اور دیگر اخلاقی و معاشرتی برائیوں جیسے جھوٹ، چوری، بدتمیزی، غنڈہ گردی، سوشل میڈیا کا غلط استعمال، خودکشی کے خیالات، جنسی ہراسانی، اور ذہنی دباؤ جیسے موضوعات پر گفتگو کے لیے مخصوص کیا جا سکتا ہے۔
اساتذہ کی تربیت اور ماہرین کی شمولیت ناگزیر
تجویز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسکول انتظامیہ صرف معلومات دینے پر اکتفا نہ کرے بلکہ اساتذہ کو ان حساس موضوعات پر تربیت فراہم کی جائے۔ تعلیمی ادارے اپنے اپنے حلقوں میں ماہرین نفسیات، نشہ ماری کے ماہرین، مذہبی اسکالرز، اور سماجی کارکنان کو مدعو کر کے ورکشاپس اور ٹریننگ سیشنز کا انعقاد کریں تاکہ اساتذہ باعلم، حساس اور ہمدرد انداز میں طلبہ کو رہنمائی فراہم کر سکیں۔
بچوں کو سفیر بنایا جائے
سماجی کارکنان کا ماننا ہے کہ بچوں کو صرف سامع نہ بنایا جائے بلکہ انہیں اس مہم کا "سفیر” بنایا جائے۔ جب ایک طالبعلم خود اس پیغام کو سمجھ کر دوسروں تک پہنچاتا ہے، تو یہ پیغام دوگنا مؤثر ہوتا ہے۔ اگر بچے اسکول سے سیکھ کر گھر جا کر والدین، بہن بھائیوں اور دوستوں سے اس بارے میں بات کریں تو پورا معاشرہ بیدار ہو سکتا ہے۔
والدین اور کمیونٹی کا کردار
یہ بھی زور دیا گیا ہے کہ اسکولوں کے ساتھ ساتھ والدین اور محلہ کمیونٹی بھی اپنی ذمے داریوں کو نبھائیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے معمولات، دوستیوں، سوشل میڈیا کے استعمال، اور ذہنی کیفیت پر گہری نظر رکھیں۔ والدین کے لیے علیحدہ awareness programs کا انعقاد بھی وقت کی ضرورت ہے تاکہ وہ بہتر طور پر اپنے بچوں کی رہنمائی کر سکیں۔
محکمہ تعلیم سے باضابطہ نفاذ کی اپیل
عوامی، سماجی، اور علمی حلقوں نے اس تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے محکمہ تعلیم سے پرزور اپیل کی ہے کہ اس اقدام کو محض ایک مشورے تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ باضابطہ حکم نامے کے تحت اسے ریاست بھر کے سرکاری و نجی اسکولوں میں فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ ساتھ ہی ایک نگران کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس پروگرام کی مؤثر نگرانی اور بہتری کے لیے سفارشات پیش کرے۔