"منشیات کے خلاف فیصلہ کن لڑائی – عوام اور پولیس کی مشترکہ کوشش ہی کامیابی کی کنجی”

0

سوپور: جموں و کشمیر میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان ایک خاموش تباہی کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ نوجوان نسل منشیات کے زہریلے جال میں پھنستی جا رہی ہے، اور یہ صورتحال معاشرے، معیشت اور خاندانی ڈھانچے کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے۔

اس صورتحال میں جموں و کشمیر پولیس نے اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھاتے ہوئے منشیات فروشوں اور اسمگلروں کے خلاف ایک منظم اور مسلسل مہم کا آغاز کیا ہے۔ آئے روز پولیس ڈرگ پڈلرز اور اسمگلروں کو قانون کی گرفت میں لارہے ہیں اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

مگر سوال یہ ہے:
کیا یہ لڑائی صرف پولیس کی ہے؟

معاشرتی ماہرین، اساتذہ اور فلاحی ادارے متفق ہیں کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف پولیس پر چھوڑ دینا مسئلے کا حل نہیں۔ ایک فعال، باشعور اور ذمہ دار معاشرہ ہی اس خطرے کو جڑ سے اکھاڑ پھینک سکتا ہے۔

ایک مقامی سماجی کارکن نے اس ضمن میں کہا:
"ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر آج یہ کسی اور کا بچہ ہے، تو کل یہ خطرہ ہمارے گھر کی دہلیز پر بھی آ سکتا ہے۔ خاموش رہنا اب جرم کے برابر ہے۔”

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک حرکات و سکنات پر گہری نظر رکھیں، فوری اطلاع دیں، اور آگاہی مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ تعلیمی اداروں، مساجد، کمیونٹی سینٹرز اور سوشل میڈیا کو مؤثر ہتھیار بنایا جائے تاکہ نوجوانوں کو بروقت خبردار کیا جا سکے۔

منشیات: ایک خاموش دشمن

یہ زہر صرف جسم کو ہی نہیں، بلکہ ذہن، رویوں اور رشتوں کو بھی تباہ کرتا ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتیں، خواب اور مستقبل اس عادت کی نذر ہو رہے ہیں۔

ہمیں صرف تماشائی نہیں بننا، بلکہ عملی کردار ادا کرنا ہے۔ پولیس، میڈیا، والدین، اساتذہ اور نوجوان – سب کو ایک پلیٹ فارم پر آ کر منشیات کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔

یہ وقت خاموشی کا نہیں، فیصلہ کن قدم اٹھانے کا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.