ماہانہ بجلی فیس میں اضافہ کے خلاف جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں لوگ نالاں

کٹوتی کے بیچ فیس میں اضافہ کرنے کو نا انصافی دیا قرار ، حکام سے مداخلت کی اپیل

0

سرینگر /     ماہانہ بجلی فیس میں اضافہ کے خلاف جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میںلوگوں نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ پی ڈی ڈی سے اس معاملے میں نظر ثانی کی اپیل کی ہے ۔

ماہانہ بجلی بلوں میں اضافہ کے خلاف جنوبی ضلع پلوامہ ، اننت ناگ اور شوپیان کے متعدد علاقوں میں صارفین نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ صارفین نے بتایا کہ انہیں حیرانی ہوئی جب ان کے گھروں میں بجلی کی بلیں پہنچ گئی اور ان میں 150روپے سے زائد اضافہ کیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بغیر کچھ کہے ہی ہمیں بجلی کی اضافی بلیں ارسال کی گئی اور بجلی کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی شیڈول کے مطابق بھی فراہم نہیں ہوتی ہے لیکن بجلی فیس میں آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔

پلوامہ کے ایک رہائشی نے بتایا کہ ان کو ماہانہ بجلی فیس کی جو بل آتی تھی وہ 1050سے تھی لیکن آج وہ یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ ان کی جو ماہانہ بجلی بل ہے وہ 1300روپے تک بڑھا دی گئی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی جو کبھی شیڈول کے مطابق ہوتی بھی نہیںہے اور دوسری طرف سے غریب اور کمزور عوام کی بجلی بلوں میں اضافہ کرکے ایک اور بوجھ ڈال دیا گیا ہے ۔

اسی طرح سے شوپیان کے ایک رہائشی نے بتایا کہ ایک طرف سے بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی شیڈول سے ہمیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے وہیں دوسری طرف پی ڈی ڈی ہمارے بجلی کے بلوں میں اضافہ کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بل موصول ہونے کے بعد علاقہ مکین حیران رہ گئے جس میں صارفین کی رضامندی کے بغیر لوڈ ایگریمنٹ اور بل کی رقم دونوں میں اضافہ کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ دیہات میں رہنے والے لوگ مالی طور پر کمزور ہیں اور اس سے ان پر مزید بوجھ پڑے گا۔اننت ناگ کے ایک اور صارف نے کہا کہ پچھلے ایک یا دو سالوں میں حکومت نے کم از کم چار سے پانچ بار ٹیرف بڑھایا ہے اور حکومت کو ایسا فیصلہ کرنے سے پہلے غریب لوگوں کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اے پی ایل اور بی پی ایل راشن کارڈ ہولڈرس کیلئے الگ الگ شرحیں ہونی چاہئیں اور اس کیلئے الگ اسکیم وضع کی جانی چاہیے۔صارفین نے محکمہ پی ڈی ڈی سے اپیل کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں تاکہ لوگوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.